ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / عدلیہ شفافیت اور غیر جانبداری سے کام کرے : ٹی ایس ٹھاکر

عدلیہ شفافیت اور غیر جانبداری سے کام کرے : ٹی ایس ٹھاکر

Tue, 20 Dec 2016 11:48:12    S.O. News Service

بنگلورو۔19؍دسمبر(ایس او نیوز) ملک آج ڈجیٹل نظام کی طرف بڑھ رہا ہے، اس نظام کے منفی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی بجائے اس کے مثبت فوائد کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ہی ڈجیٹلائزیشن کے خطروں سے نمٹنے کیلئے بھی عدلیہ کے نظام اور اس سے وابستہ افسران کو مستعد ہونا چاہئے۔یہ بات آج چیف جسٹس آف انڈیا ٹی ایس ٹھاکر نے کہی۔ کرناٹکا جوڈیشیل آفیسرس اسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جمہوری نظام اگر مضبوط رہنا ہے تو اس نظام کے تحت عدلیہ کو کافی مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔عدلیہ کا نظام اگر انتظامی اور معاشی طور پر شفاف اور آزاد رہا تو اس سے ناانصافیوں کا خاتمہ اور انصاف کو عام کرنے میں مدد مل سکے گی۔ انہوں نے کہاکہ عدلیہ سے وابستہ افسران اور بالخصوص ججس اگر کسی بھی دباؤ میں آئے بغیر غیر جانبداری سے انصاف کریں گے تو ملک میں عدل کا ماحول قائم ہوگا۔ حکومتوں سے ملنے والے گرانٹس کو صحیح طریقے سے استعمال کرکے ہر ایک کو انصاف دلانے کی اگر کوشش کی گئی تو ملک میں عدلیہ کا مقصد حاصل ہوسکے گا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ملک میں ڈجیٹل نظام کو وسیع کرنے کی کوشش کافی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، اس ماحول میں عدلیہ کے انفرااسٹرکچر کو بھی ڈجیٹل نظام سے ہم آہنگ کرنے کی طرف خاص توجہ دینے کے ساتھ اس سے درپیش خطرات اور چیلنجوں پر بھی نظر رکھنی چاہئے۔ ڈجیٹل نظام اگر مکمل طور پر اپنالیا گیا تو اس سے پھیلنے والے سائبر جرائم ،سیکورٹی سے جڑے جرائم ، بچوں کے استحصال وغیرہ پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ایسے معاملات کو نمٹانے میں عدلیہ کے افسران کو انتہائی حساس طریقے سے اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ کرناٹک کے عدلیہ نظام کو ملک کا بہترین نظام قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک کی کوئی حکومت عدلیہ کو اتنی سہولیات مہیا نہیں کرارہی ہے جتنی کرناٹک میں مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کرناٹک میں ججوں کی مخلوعہ اسامیوں کو پر کرنے کی طرف بھی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایس کے مکھرجی نے کہاکہ ریاستی ہائی کورٹ میں زیر التواء مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کی طرف خاص توجہ دی جارہی ہے ،جس کے نتیجہ میں مقدمات کا انبار مسلسل گھٹ رہا ہے، لوک عدالت، مداخلت اور کونسلنگ ومصالحت کے طریقوں سے تنازعات کو نمٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے عدلیہ افسران میں ڈسپلن کی کمی کی شکایت کی اور اسے اپنانے پر زور دیا۔ حکومت کرناٹک کی طرف سے عدلیہ کو مہیا کرائی جارہی سہولیات کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عدلیہ افسران کو اس بات پر بھی توجہ دینی چاہئے کہ قانونی شعبے میں اپنی معلومات کو آنے والی نسل کی طرف منتقل کریں۔ اس پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون ٹی بی جئے چندرا نے ریاست کے عدلیہ نظام کو مضبوط کرنے اور ججوں کی مخلوعہ اسامیوں کو پر کرنے کیلئے حکومت کی طرف سے پہل کا اعلان کیا اور کہاکہ 197 معاون سرکاری وکیلوں کے تقرر کا عمل شروع ہوچکا ہے۔مزید 275 کی تقرری کو حکومت جلد منظوری دے گی۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کے عدلیہ نظام کو جملہ 5ہزار اسامیاں منظور کی گئی ہیں ،جن میں سے ایک ہزار کی بھرتیوں کو منظوری مل چکی ہے۔عدلیہ کو ضروری انفرااسٹرکچر مہیا کرانے کیلئے اقدامات کا وعدہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس کی نگرانی میں ملک میں 13سو نئی عدالتوں کو منظوری مل چکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں جملہ 9 سو عدالتوں کیلئے نئی عمارتیں تیار کرلی گئی ہیں۔ عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کیلئے ضلعی سطح پر افزود افسران کے تقرر کا وزیر موصوف نے وعدہ کیا ۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ سدرامیا، کیرلا ہائی کورٹ کے چیف جسٹس موہن ایم شانت گوڈر اور دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔


Share: